(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکیہ کے وزیر خارجہ Hakan Fidan نے کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ترکیہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے عمل میں شامل ہونے پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے اس ممکنہ اقدام کو اصولی طور پر ایک انسانی ذمہ داری قرار دیا۔
ان کے مطابق کسی بھی معاہدے کے بعد ایک تکنیکی ٹیم اس اہم سمندری راستے میں مائن کلیئرنس (بارودی سرنگوں کی صفائی) کا کام انجام دے سکتی ہے، اور ترکیہ اس عمل کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام مکمل طور پر کسی باضابطہ معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے تھے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے تو ان کی صفائی ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہوگا، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوگا۔ ترکیہ کا ممکنہ کردار اس حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وہ نہ صرف خطے میں ایک فعال سفارتی قوت ہے بلکہ نیٹو کا رکن بھی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کی بڑی طاقتیں ممکنہ جنگ بندی کے بعد کے حالات کے لیے بھی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنا دیا جاتا ہے تو اس سے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خطے میں استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ترکیہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور عالمی برادری اس بات کی منتظر ہے کہ آیا کوئی مستقل حل سامنے آتا ہے یا نہیں۔