(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکیہ کے قومی انٹیلی جنس ادارے National Intelligence Organization (MIT) کے سربراہ İbrahim Kalın نے حالیہ بیان میں ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر ایک چونکا دینے والا مؤقف پیش کیا ہے، جس نے علاقائی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیان کے مطابق ابراہیم کالن کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ یا کشیدگی کا براہِ راست ہدف ایران نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی اور طویل المدتی حکمت عملی کارفرما ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جو مستقبل میں مختلف قومیتوں اور گروہوں کے درمیان ایک طویل خانہ جنگی کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ ممکنہ تنازع ترک، کرد، عرب اور فارسی (ایرانی) آبادیوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے، جو آنے والے برسوں میں پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔ ان کے بیان نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی صرف وقتی نہیں بلکہ ایک بڑے جیوپولیٹیکل منصوبے کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ترکیہ اس خطے میں ایک اہم کردار رکھتا ہے اور اس کے انٹیلی جنس سربراہ کا ایسا بیان علاقائی پالیسیوں اور مستقبل کی حکمت عملیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان دراصل ایک وارننگ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر موجودہ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو پورا خطہ ایک نئے اور طویل بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب کچھ ماہرین اس بیان کو سیاسی اور سفارتی تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور اسے ترکیہ کی جانب سے اپنے علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط پیغام قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے بیانات کا مقصد عالمی طاقتوں کو متنبہ کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات وسیع اور دیرپا ہوں گے۔
مجموعی طور پر یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے، اور ایسے میں اس قسم کی وارننگز خطے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہیں۔