(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی، شام اور اردن نے ایک مشترکہ ریلوے منصوبے پر پیش رفت تیز کر دی ہے جس کا مقصد یورپ کو خلیجی ممالک سے براہ راست زمینی راستے کے ذریعے جوڑنا ہے۔ اس مجوزہ کوریڈور کے تحت ریل نیٹ ورک یورپ سے ترکی کے راستے شام میں داخل ہو کر اردن تک جائے گا، جہاں سے اسے خلیجی ممالک کے ریلوے نظام سے منسلک کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر روایتی تجارتی راستے، خاص طور پر سمندری گزرگاہیں، کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔ ترکی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو ایک محفوظ اور مرکزی تجارتی راہداری کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اس منصوبے میں شام کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، جو ترکی اور اردن کے درمیان جغرافیائی پل کا کردار ادا کرے گا، جبکہ اردن کے ذریعے خلیجی منڈیوں تک رسائی ممکن بنائی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف تجارتی وقت میں کمی آئے گی بلکہ علاقائی معیشتوں کے درمیان روابط بھی مضبوط ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تاریخی حجاز ریلوے کے تصور سے متاثر ہے، جسے جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ کوریڈور کامیاب ہوتا ہے تو یہ سویز کینال جیسے مصروف راستوں کا متبادل بن سکتا ہے اور عالمی تجارت کو ایک نیا رخ دے سکتا ہے۔
تاہم اس منصوبے کو کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں شام میں انفراسٹرکچر کی تباہی، سیکیورٹی خدشات اور سیاسی استحکام شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار خطے میں امن، سرمایہ کاری اور طویل مدتی تعاون پر ہوگا۔
موجودہ حالات میں یہ اقدام نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتا ہے، جو مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔