امریکاتازہ ترین

اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات کی تیاریاں، مگر صورتحال غیر یقینی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی تیاریوں نے عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اسلام آباد میں اس حوالے سے سیکیورٹی انتظامات، سفارتی سرگرمیوں اور علامتی تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور ایران و امریکہ کے درمیان سخت بیانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگرچہ امریکی قیادت مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کر رہی ہے، لیکن ایرانی حکام کی جانب سے محتاط یا منفی اشارے اس عمل کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔

سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ کوشش نہ صرف خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم ہو سکتی ہے بلکہ اس سے اسلام آباد کی عالمی سطح پر سفارتی اہمیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی افغانستان، سعودی عرب اور ایران جیسے معاملات میں ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، اور موجودہ صورتحال میں وہ خود کو ایک پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

دوسری جانب، مذاکرات کے ایجنڈے پر اختلافات ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ایران اپنے دفاعی پروگرام، خاص طور پر میزائل صلاحیتوں پر بات چیت سے گریز کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اس معاملے کو اہم سمجھتا ہے۔ اسی طرح پابندیوں کا خاتمہ، یورینیم پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے معاملات بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلاف کا باعث ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران۔امریکہ تعلقات میں ایک نیا باب کھول سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ کوشش ناکام رہتی ہے تو خطے میں مزید تناؤ، اقتصادی دباؤ اور ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

موجودہ حالات میں دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ آیا سفارت کاری کامیاب ہوگی یا کشیدگی مزید شدت اختیار کرے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button