(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ترکی نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر “مڈل کوریڈور” کو ایک متبادل تجارتی راستے کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ راہداری ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے ایک محفوظ اور تیز راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
یہ منصوبہ چین، وسطی ایشیا، قفقاز اور ترکی کے ذریعے یورپ تک زمینی و ریل نیٹ ورک کو جوڑتا ہے، جسے موجودہ بحری راستوں کے مقابلے میں کم خطرناک اور زیادہ مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی اور تجارتی سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات نے اس منصوبے کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
ترکی کا مؤقف ہے کہ مڈل کوریڈور نہ صرف تجارتی لاگت کو کم کر سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کو متبادل راستہ فراہم کر کے بحران کے اثرات بھی کم کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام ترکی کو خطے میں ایک اہم تجارتی حب کے طور پر ابھار سکتا ہے۔
اگر اس منصوبے پر مؤثر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ عالمی تجارت کے نقشے کو تبدیل کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سمندری راستے سیکیورٹی خطرات سے دوچار ہوں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا عالمی طاقتیں اور تجارتی شراکت دار اس متبادل راستے کو کس حد تک اپناتے ہیں، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق توانائی، تجارت اور جیوپولیٹیکل توازن سے ہے۔