(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کئی تیل بردار جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے بعد اچانک اپنا راستہ تبدیل کر لیا، جس سے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق شپنگ کمپنیوں اور تیل کے تاجروں میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔
کچھ آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز کے قریب پہنچ کر یوٹرن لیا، جس کی بڑی وجہ سیکیورٹی خدشات، ممکنہ حملوں کا خطرہ اور بحری راستوں کی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی سپلائی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں شپنگ کمپنیاں خطرات مول لینے کے بجائے متبادل راستوں یا عارضی تاخیر کو ترجیح دے رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ترسیل کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں سے گزرنے والی ہر رکاوٹ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لیے موجودہ حالات کو عالمی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو نہ صرف تیل کی قیمتیں متاثر ہوں گی بلکہ عالمی تجارت اور معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔