اقوام متحدہ کی رپورٹ: غزہ جنگ میں روزانہ اوسطاً 47 خواتین اور بچیاں جاں بحق
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران اکتوبر 2023 سے لے کر 2025 کے اختتام تک 38 ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، جو مجموعی ہلاکتوں کا نصف سے زیادہ حصہ بنتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی نمائندہ صوفیا کالتروپ نے جاری کیے۔
رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تقریباً 22 ہزار خواتین اور 16 ہزار بچیاں شامل ہیں، اور اس طرح روزانہ اوسطاً کم از کم 47 خواتین اور بچیوں کی جاں بحق ہونے کی رپورٹ سامنے آئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق زیادہ تر اموات فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئیں، جو اس تنازع میں شہری آبادی پر شدید اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ تقریباً 11 ہزار خواتین اور بچیاں شدید زخمی ہوئیں، جن میں سے کئی مستقل معذوری کا شکار ہو چکی ہیں۔حالیہ مہینوں میں بھی تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، اور جنگ بندی کے باوجود سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ بن چکی ہیں، جو بے گھری، خوراک اور پانی کی قلت، اور طبی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 10 لاکھ خواتین اور بچیاں جنگ کے دوران متعدد بار نقل مکانی پر مجبور ہوئیں، جبکہ لاکھوں افراد شدید غذائی بحران کا شکار ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے مطابق مجموعی جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس تنازع کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں سب سے زیادہ بوجھ کمزور طبقات، خصوصاً خواتین اور بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔