
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر چین کا تیار کردہ ایک جاسوس سیٹلائٹ حاصل کر لیا، جس کے ذریعے وہ حالیہ جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کرتا رہا۔ اس پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق "ٹی ای ای-01 بی” نامی یہ سیٹلائٹ چینی کمپنی ارتھ آئی نے تیار کیا اور 2024 کے آخر میں خلا میں بھیجا گیا، جس کے بعد اسے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے حوالے کر دیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی فوجی حکام نے اس سیٹلائٹ کو امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا۔
لیک ہونے والی دستاویزات کے مطابق سیٹلائٹ نے مختلف امریکی اڈوں کی تصاویر اور جغرافیائی معلومات حاصل کیں، جن میں حملوں سے پہلے اور بعد کی صورتحال بھی شامل تھی۔ ان اہداف میں سعودی عرب کا پرنس سلطان ایئر بیس، اردن کا موفق السلتی ایئر بیس، بحرین میں امریکی بحری بیڑے کا مرکز اور عراق کا اربیل ایئرپورٹ شامل بتائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انہی دنوں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملے بھی ہوئے، جن کی ذمہ داری ایران سے وابستہ فورسز نے قبول کی تھی۔ 14 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی تھی کہ سعودی عرب میں واقع ایک اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اس معاملے پر چین نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ ایران نے کسی چینی سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اہداف پر حملوں کی رہنمائی کی۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ کسی بھی تنازع میں فریقین کو اسلحہ یا ایسی معاونت فراہم نہیں کرتا۔

دوسری جانب امریکی حکام، سی آئی اے، پینٹاگون اور متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے اس معاملے پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کو نہ صرف سیٹلائٹ تک رسائی دی گئی بلکہ بیجنگ کی ایک کمپنی ایمپوسیٹ کے زیرِ انتظام گراؤنڈ اسٹیشنز تک بھی رسائی حاصل ہوئی، جس کے ذریعے سیٹلائٹ ڈیٹا کو کنٹرول اور حاصل کیا جا سکتا تھا۔ یہ نیٹ ورک ایشیا، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں تک پھیلا ہوا ہے، جو ایران کی نگرانی کی صلاحیت کو مزید وسیع بناتا ہے۔
اسی تناظر میں ایک اور امریکی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین ممکنہ طور پر ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جن میں کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل (مین پیڈز) شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم چین نے اس خبر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو ایران کی انٹیلیجنس اور نگرانی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی وقت میں معلومات حاصل کرنا جنگی حکمت عملی کو زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے اور بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید انکشافات خطے کی سیاست اور سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔



