
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ میں اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام آئرن ڈوم کی مالی معاونت، جو طویل عرصے تک دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی مشترکہ حمایت حاصل کرتی رہی، اب سیاسی بحث کا موضوع بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی کانگریس کے اندر اس نظام کے لیے مزید فنڈنگ پر اختلافات واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔
ماضی میں آئرن ڈوم کو ایک دفاعی ضرورت سمجھا جاتا تھا، جس کا مقصد شہری آبادی کو راکٹ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اس کی حمایت کرتی تھیں اور فنڈنگ کے بلز آسانی سے منظور ہو جاتے تھے۔ تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔
امریکی سیاست میں ترقی پسند (پروگریسیو) دھڑے کے کئی نمایاں ارکان نے اس نظام کے لیے جاری مالی امداد پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ نظام اسرائیل کو خطے میں مزید جارحانہ اقدامات کرنے کا حوصلہ دے سکتا ہے، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ محض دفاعی نوعیت کا نظام ہے جو شہریوں کی جانیں بچانے کے لیے ضروری ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں آئرن ڈوم کے لیے اضافی فنڈنگ کا بل ایوانِ نمائندگان میں صرف چند مخالفتی ووٹوں کے ساتھ منظور ہوا تھا، لیکن اب اسی نوعیت کی حمایت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی پر داخلی سطح پر نئی بحث جنم لے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، خاص طور پر لبنان اور دیگر محاذوں پر جاری تنازعات، نے اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی عوام اور سیاستدانوں کے درمیان خارجہ پالیسی کے حوالے سے ترجیحات بدل رہی ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں اسرائیل کو ملنے والی دفاعی امداد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آئرن ڈوم ایک خالص دفاعی نظام ہے جو ہزاروں راکٹ حملوں کو ناکام بنا چکا ہے اور اس کی حمایت جاری رہنی چاہیے تاکہ خطے میں سویلین آبادی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔



